اشاعتیں

2018 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

محبت کے جھانسے اور مسلم بیٹیاں

*محبت کے جھانسے اور مسلم بیٹیاں ارتدادی طوفان کی زد میں, بحث ایک نئے زاویے سے.*  سيد احمد فحاشیت ناجائز تعلقات یا پھر پسند کی شادی کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھا لینا، یہ الگ موضوع بحث ہے, جبکہ ارتداد کا شکار ہوکر محبت کے نام پر غیر مسلمین سے شادی یہ بالکل الگ مسئلہ اور موضوع ہے. دونوں کے اسباب و وجوہات، نتائج و کیفیت ہر چیز بالکل جدا ہیں. ایک مسلمان بد عملی کی کنہی انتہاؤں پر پہنچ جائے مگر اسکے دل میں فی الواقع اگر ایمان ہے تو وہ ارتداد اور کفر کے تصور سے بھی لرز اٹھے گا, لیکن آخر کیوں ہماری بہنیں اور بیٹیاں اس کثرت کے ساتھ ارتدادی آندھی کی لپیٹ میں آرہی ہیں؟؟؟  جذباتیت سے اوپر اٹھ کر اس پر تکنیکی اعتبار سے بحث ضروری ہے. محض فحاشیت اور عریانیت کو اسکی اساسی وجہ قرار دے دینا حقائق سے منھ موڑنے کے سوا کچھ نہیں ہے. *میں ذاتی طور پر جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہیکہ* فی زماننامسلم معاشرہ اعتقادی طور پر اسلام کی حقیقی روح سے ناواقف اور اسکی انفرادیت و حقانیت سے بالکل نا آشنا ہے، اور عملی زندگی میں تو ہمارا سماج  خصوصاً معاشرت و معاملات کے میدان میں موجودہ حالت کے ساتھ کوئی...

مولوی محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتے؟؟؟

سوال: مولوی محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتے؟؟؟ جواب: بقلم مولانا زاھدالراشدی محراب ومنبر کے وارث اور محنت مزدوری ازقلم: حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب محترم راجہ انور صاحب کو شکایت ہے کہ محراب ومنبر کے وارث مزدوری کیوں نہیں کرتے؟ ان کی بڑی تعداد محنت مزدوری یا نوکری اور تجارت سے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتی؟ ان میں سے اکثر چندے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے بجائے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یا وزن اٹھا کر اپنی روزی کیوں نہیں کماتے؟ یہ شکایت نئی نہیں، بہت پرانی ہے اور جب مسجد اور مدرسہ نے ایک ریاستی ادارے کی حیثیت سے محروم ہوکر پرائیویٹ ادارے کی حیثیت اختیار کی ہے اور اسے اپنا وجود برقرار رکھنے اور نظام چلانے کے لیے صدقہ، زکوٰۃ، قربانی کی کھالوں اور عوامی چندے کا سہارا لینا پڑا ہے، تب سے یہ شکوہ زبانوں پر ہے اور مختلف طریقوں سے وقتاً فوقتاً اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ مغل حکومت کے دور میں مسجد ومدرسہ کو ریاستی ادارے کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کے اخراجات کی ذمہ داری ریاست پر تھی۔ درس نظامی ملک کا سرکاری نصاب تعلیم تھا اور عدالتوں میں اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری تھی۔ جب اس سارے ...

بیوی آپ کی شریک سفر ھے| جناب مولانا حامد ناصری صاحب

بیوی آپ کی شریک سفر ہے ، آپ کی جیون ساتھی ہے۔ ایسے میں اگر تھکی ہو تو اپنی تھکان دور کرنے کے لیے کسے کہے ۔ اب وہ ہر وقت تو دائی کو بلانے سے رہی ۔ اس کی واحد امید شوہر ہی ہوتا ہے کہ وہ اس کے پاءوں دبائے گا ۔ ایسے مردوں کو رن مرید کا طعنہ دیا جاتا ہے مگر یہ تو ان کی محبت ہے ۔ ویسے بھی بیوی کبھی بھی زیادہ دیرتک پاءوں دبانے کا نہیں کہے گی ۔۔اس پاءوں دبانے کے مردانہ صحت پر حالیہ تحقیق میں بہترین فائدوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شوہر کے ہاتھوں کی ورزش ہوتی ہے ۔ اس کے اندر سے سستی کا مادہ ختم ہوتا ہے اور وہ چست و توانا ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مردانہ کمزوری کا علاج بھی اس میں ہی ہے کہ شوہر کے جذبات بیدار کرنے کے لیے یہ نسخہ کارآمد ہے ۔ حکیموں کے پاس بھاگنے کی بجائے بیوی کے پائوں دبا دیجئے ۔ خود ہی مردانہ کمزوری دور ہوجائے گی ۔۔۔ یہاں طنز کرتے ہیں کہ جو مردانہ کمزوری کا شکار ہوں وہ بیوی کے پاءوں دباتے ہیں کیونکہ وہ بیوی کے رعب میں ہوتے ہیں کہ اسکی عزت بیوی کی زبان کے نیچے ہوتی ہے ۔ مگر یہ غلط ہے ۔ بیوی سارا دن تھکا دینے والے کام کرتی ہے ۔ اگر صرف دو منٹ کے لیے شوہر پائ...

ہاں میں مدرسے کاسفیرہوں نازش ہماقاسمی

ہاں میں مدرسے کا سفیر ہوں۔۔۔۔! نازش ہماقاسمی ہاں میں مدرسے کا سفیر ہوں۔ جی وہی سفیر جسے عرف عام میں مُچَنِّد اور چندہ کرنے والا کہا جاتا ہے۔ جسے  غلط نگاہوں سے قوم دیکھتی ہے۔ ہم شہر میں تو مہمان بن کر آتے ہیں؛ لیکن رؤسائے شہر پیسوں کے زعم میں ہمارے ساتھ  ذلت کا معاملہ کرتے ہیں۔ ہاں میں  مدارسِ اسلامیہ ہند کا سفیر ہوں۔ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں جہاں لوگ اپنے گھروں میں مقدس ماہ کی مبارک ساعتیں گزارتے ہیں وہیں ہم سفراء مدارسِ اسلامیہ طلبائے مدارس اسلامیہ کے سال بھر کے نان ونفقہ کے لیے دور دراز کے علاقوں کا سفر کرتے ہیں، مہمانانِ رسول کے قیام وطعام کے انتظام کے لئے تگ و دو کرتے ہیں، سفر کے مصائب و آلام برداشت کرتے ہیں، ہم عموماً ایسے علاقوں میں مدرسے چلاتے ہیں جہاں کی آبادی غریب ہے، جہاں مسلمان کسمپرسی کے عالم میں ہیں، جہاں مسلمان پریشان حال ہیں، ایسے علاقے کے مدرسوں میں پڑھ رہے طلباء اسلامیہ کے لیے ہم شہروں کا رخ کرتے ہیں؛ تاکہ مدرسے کا چندہ کرکے ان کے اخراجات پورے کرسکیں، انہیں سہولیات فراہم کرسکیں؛ تاکہ وہ قیام وطعام کی فکر سے آزاد ہوکر پورے انہماک سے تعل...

امارت شرعیہ نے ڈاکٹرخالد انو ر سے مکمل بیزاری کا کیا اظہار

تصویر
امارت شرعیہ نے ڈاکٹرخالد انو ر سے مکمل بیزاری کا کیا اظہار پٹنہ۔ ۲۱؍اپریل: (پریس ریلیز) (مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۲۰۱۸؁ء)کے دین بچاؤاوردیش بچاؤ کی تاریخ ساز کانفرنس کے اختتام کے بعد سرکاری حلقہ سے ڈاکٹر خالد انورکے ایم ایل سی کے امیدوار بنائے جانے کی خبر نے کانفرنس کے شرکاء اورامارت شرعیہ کے ذمہ داروں کو متحیر کردیا جیسے ہی یہ خبر ٹی وی اسکرین پر دکھائی جانے لگی مختلف حلقوں سے اس کی اطلاع امارت شرعیہ میں آئی اورحضرت امیر شریعت مولاناسید محمد ولی رحمانی مدظلہ کو اطلاع دی گئی تو انہوں نے بھی اپنی ناخوشی اورحیرت کا اظہار کیا  چوںکہ ڈاکٹر خالد انور دین بچاؤاوردیش بچاؤ کانفرنس کے اناؤنسر تھے اورانہوں نے پہلے سے کوئی مشورہ نہیں کیا تھا اورنہ ہی اس کی اطلاع دی تھی کہ ان کا نام ایم ایل سی کے لئے منتخب ہونے والا ہے یہ ایسا موقع تھا جو امارت شرعیہ کی خدمات اس کے طریقۂ کار اورکانفرنس کی عظمت اوراہمیت کے بارے میں ایمان والوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہورہے تھے اس لئے دوسرے ہی دن حضرت امیر شریعت نے اپنے اخباری بیان میں اس کی وضاحت فرمائی کہ ڈاکٹر خالد انور کے بارے میں امارت شرعیہ کی ط...

ایک ایک کرکے ہمارے مذہبی قائدین کو بدنام کیا جارہا ھے اور ہم اس میں برابر کے شریک بن رہے ھیں.

تصویر
ایک ایک کرکے ہمارے مذہبی قائدین کو بدنام کیا جارہا ھے اور ہم اس میں برابر کے شریک بن رہے ھیں. پہلے مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب کو تین طلاق کے مسئلے پر بدنام کیا گیا. پھر مولانا سید سلمان حسینی صاحب کو بابری مسجد کے سودے بازی کے الزام میں بدنام کیا گیا. اور اب مولانا سید ولی رحمانی صاحب کو ایم ایل سی ٹکٹ کی آڑ میں بدنام کیا جارہا ھے... اب دیکھنا یہ ھے کہ اگلا نمبر ہمارے کس قائد کا ہوتا ھے؟؟. شاید ایک دن ایسا آئے گا کہ ہمارے سارے قائدین کو ہماری نظروں میں برا بنا دیا جائے گا.. اور پھر مسلمانوں کو مار لینا کچھ مشکل نہ ہوگا... اب بھی ہمارے پاس موقع ھے کہ ہم خاموش ہوجائیں.. اپنی زبانیں. اپنے قلم روک لیں... اور اپنے غصے اور جذباتیت پر قابو پاکر بغیر کسی ذہنی دباؤ کے سوچیں کہ آخر معاملہ کیا ھے؟ آخر ایسا کیوں ہورہا ھے؟؟ اور کن لوگوں کے ذریعہ ہورہا ھے... ان الزامات کی شروعات کہاں سے ہورہی ھے.. اور شیرہ لگانے کا کام کون کر رہا ھے..؟ ہمارے پاس کوئی تحقیق نہیں ہوتی، کوئی سچی رپورٹ نہیں ہوتی.. نہ ہمارے پاس وحی کا سلسلہ ھے نہ کشف و الہامات کی بارش ... پھر آخر ہم کیسے اتنے ال...

مکہ مسجد دھماکہ کیس میں عدالت کے فیصلہ کو اعلیٰ عدالت میں چینلج کیا جائے گا : جمعیۃعلماہند کی مجلس عاملہ کا فیصلہ

تصویر
مکہ مسجد دھماکہ کیس میں عدالت کے فیصلہ کو  اعلیٰ عدالت میں چینلج کیا جائے گا : جمعیۃعلماہند کی مجلس عاملہ کا فیصلہ  دہلی:20اپریل(قندیل نیوز ) جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس مرکزی دفترمفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال 1بہادرشاہ ظفرمارگ نئی دہلی میں صدرمولانا سید ارشدمدنی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک کے موجودہ حالات اور دوسرے اہم مسائل پر غور خوض ہوا اور ان پر مجلس عاملہ کے ممبران نے کھل کر اپنی رائے اور احساسات کا اظہار کیا ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃعلماء ہند نے ملک کے موجودہ حالات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات ملک کے تقسیم کے وقت سے بھی بدتر اور خطرناک ہوچکے ہیں ایک طرف جہاں آئین وقوانین کی بالادستی کو ختم کرنے کی سازش ہورہی ہے وہی عدل وانصاف کی روشن روایت کو بھی ختم کردینے کی خطرناک روش کو عام کیا جارہا ہے ،مکہ مسجد دھماکہ کے معاملہ میں ملزمین کی باعزت رہائی پر انہوں نے سخت افسوس اور دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کااشارہ تو اس حکومت کے اقتدارمیں آنے کہ بعد ہی مل گیا تھا جب مالیگاؤں بم دھماکہ کے مقدمہ میں سرکاری وکی...

جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس زیر صدارت مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃعلماء ہند

تصویر
ملک کے اتحاد وسالمیت کے لئے تمام مظلوم طبقات کا متحد ہونا ضروری : مولانا سید ارشد مدنی مکہ مسجد دھماکہ میں عدالت کے فیصلہ کو اعلیٰ عدالت میں چینلج کیا جائے گا : جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا فیصلہ نئی دہلی ۔ 20؍اپریل 2018 جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس مرکزی دفتر مفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال ۱بہادرشاہ ظفرمارگ نئی دہلی میں صدرمولانا سید ارشدمدنی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک کے موجودہ حالات اور دوسرے اہم مسائل پر غور خوض ہوا اور ان پر مجلس عاملہ کے ممبران نے کھل کر اپنی رائے اور احساسات کا اظہار کیا ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃعلماء ہند نے ملک کے موجودہ حالات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات ملک کے تقسیم کے وقت سے بھی بدتر اور خطرناک ہوچکے ہیں ایک طرف جہاں آئین وقوانین کی بالادستی کو ختم کرنے کی سازش ہورہی ہے وہی عدل وانصاف کی روشن روایت کو بھی ختم کردینے کی خطرناک روش کو عام کیا جارہا ہے ،مکہ مسجد دھماکہ کے معاملہ میں ملزمین کی باعزت رہائی پر انہوں نے سخت افسوس اور دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کااشارہ تو اس حکومت کے اقتدا...

عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔

تصویر
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔ ۔ ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا، قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔۔ (عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں) بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی، اسے خاص " گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج " بنا لیا جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا. چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا، اس نے کہا "نسلی نہیں ھے" بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،،،، اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے. مسئول کو بلایا گیا، تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟؟؟ اس نے کہا، جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے. بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا، مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا. اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا، چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے ب...

۔۔شمع فروزاں۔۔۔ مغرب کی فکری یلغار کی بنیاد اور اس کا علاج حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

تصویر
۔۔۔شمع فروزاں۔۔۔ مغرب کی فکری یلغار کی بنیاد اور اس کا علاج حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (جنرل سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)  سیرت نبوی کا ایک اہم اور مشہور واقعہ معراج کا ہے، جو مشہور روایت کے مطابق رجب میں پیش آیا، ابھی ابھی یہ مہینہ گذرا ہے، معراج کے موقع پر جو باتیں پیش آئیں، ان میں ایک اہم بات یہ تھی کہ جب آپﷺ اس سفر آسمانی سے واپس ہوئے اور اگلی صبح اپنی چچازاد بہن حضرت ام ہانیؓ سے اس کاذکر فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ آپ یہ قصہ اہل مکہ سے نہیں کہیں؛ کیوں کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں گے، حضرت ام ہانی کو خوب اندازہ تھا کہ یہ حقیقت ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ کے نظام غیبی کو سمجھنے سے قاصر ہیں، جب وہ اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ آپﷺ کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے تو بھلا اس بات کا کیا یقین کریں گے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے راتوں رات مکہ مکرمہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے عالم بالا پر لے جائے گئے؛ اس لئے انہوں نے سوچا کہ اہل مکہ کی طرف سے تمسخر کا ایک دروازہ کھل جائے گا۔  لیکن چوں کہ نبی کے لئے یہ بات ضروری ہوتی تھی ک...

بخدمت جناب شاہنواز بدر صاحب وفقہ اللہ لما یحبہ ویرضاہ                

📩 📩 📩 📩 📩 📩 📩 بسم اللہ الرحمن الرحیم بخدمت جناب شاہنواز بدر صاحب وفقہ اللہ لما یحبہ ویرضاہ                           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ’’تازہ ترین گروپ‘‘پر گاندھی میدان کی عظیم الشان اور تاریخی کانفرنس کے سلسلے میں جو تیز و تند تبصرے کیے گئے، انہیں پڑھنے کا موقع ملا ، ارباب فکرونظر کی طبع آزمائی بھی کیا خوب شئے ہے دل آزاربھی،جگر فگار بھی!اللہ پاک نے زبان و قلم کی نعمت سے اس ناچیز کو بھی نوازا ہے، مگربزرگوں نے بچپن سے یہ سکھایا ہے کہ ملّت کو کبھی انتشار اور افتراق میں مبتلا نہ کرنا، نہ اپنے قلم سے نہ اپنے قدم سے ،اس لئے ’’طنز دلخراش‘‘اور’’ہجو ملیح‘‘ کو بھی’’شیر مادر‘‘ کی طرح پی جانے اور’’صبر جمیل‘‘ کی راہ پر چلنے کی کوشش زندگی کا شیوہ بھی ہے شعاربھی! بہت پہلے ایک بزرگ نے یہی نصیحت کرتے ہوئے یہ پیارا شعر سنایا تھا    ؎ تلخ و شیریں بے تکلف جس کو پینا آگیا پینا تو پینا مے کشو! اس کو جینا آگیا آج بھی بجائے جواب یا تنقید و تنقیص کے آپ سے اور تنقید کے نام پر کردار کشی کرنے والے مخلص احباب سے چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔ *(۱) ڈاکٹر خالد انور کو کانفرنس کا کنوینر کہا گیا...

مفتی ابوذر صاحب قاسمی صدر جمعیت علماء ہند مدہوبنی۔

دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس کی تاریخ ساز کامیابی اکابرین امارت شرعیہ کی مخلصانہ کوششوں کانتیجہ ہے۔ ………………………………………………………… مفتی ابوذر صاحب قاسمی صدر جمعیت علماء ہند مدہوبنی۔ ………………………………………………………… اللہ رب العالمین پوری کائنات کے خالق مالک ہیں۔ جب جسے چاھتے ہیں کائنات کی حکمرانی عطاء فرماتے ہیں۔اس وقت ہمارے ملک جسکا شاندار ماضی رہا ہے کرب و بیچینی کے دور سے گزر رہاہے۔ حکمراں طبقہ مختلف عنوان سے مذہب اسلام میں مداخلت کرنا چاہ رہی ہی جبکہ اسلام کا پاکیزہ نظام ہر زمانے میں عظمت کی نگاہ سے دیکھاگیا ہے ۔ اسلام کا کوئی بھی حکم فطرت سلیمہ کے خلاف نہیں ہے مٹھی بھر لوگوں نے غلط روش سے اسلام کو بدنام کیا ہے لیکن ان کا غلط طریقہ اسلام کا حصہ نہیں ہوسکتا ۔ تین طلاق اور حلالہ جیسے مسئلہ میں کچھ ناخواندہ جاہل قسم کے لوگوں نے غلط طریقہ اپنایا جس کو ہمیشہ سے علماء نے غلط کہا اور کہتے رہیں گے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلام میں کوئی بھی حکم تبدیلی کے قابل ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کے صحیح طریقوں کو سیکھیں۔ اور مذہب کے متعلق پیدا ہونے والی بد گمانی کو دور کریں۔ موجودہ حالات میں مسلمانو کی...

ہاں میں سید محمد ولی رحمانی ہوں۔۔۔! نازش ہما قاسمی

ہاں میں سید محمد ولی رحمانی ہوں۔۔۔! نازش ہما قاسمی جی ہاں میں ہی سید محمد ولی رحمانی ہوں جو جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور امیر شریعت بہار واڈیشہ وجھارکھنڈ ہے۔۔۔ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جن کے والد کا نام سید منت اللہ رحمانی ہے جو بانی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہیں ۔ میرے دادا کا نام حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری ہیں جن کی مرہون منت ندوۃ العلما ہے۔ میری پیدائش پانچ جون 1943کو مونگیر میں ہوئی۔ میں نے اپنی تعلیم رحمانیہ اردو اسکول خانقاہ رحمانی ، جامعہ رحمانی مونگیر، ندوۃ العلما، دارالعلوم دیوبند اور تلکا مانجھی یونیورسٹی بھاگلپور سے حاصل کی۔ میں جیلانی سادات گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ الحمدللہ ثم اللہ سید ہوں۔میرا سلسلہ نسب شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ سے 25واسطوں سے ملتا ہے۔ میرے آباء میں سے ابوبکر چرم پوش تقریباً ساڑھے تین سو سال قبل ملتان سے مظفر نگر یوپی کے کھتولی میں آکر قیام پذیر ہوئے اور یہیں سکونت اختیار کرلی۔ پھر میرے جدامجد سید شاہ غوث علی مظفر نگر سے کانپور منتقل ہوگئے اور وہاں بودو باش اختیار کی۔ کانپور میں ہی شاہ سید عبدالعلی علیہ الرحمہ کے یہاں...

امیر شریعت مفکر ملت مولانا سید محمد ولی رحمان صاحب

کانفرنس میں شریک ہونے والے اس ملک کی ملی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر گئے دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس کی تاریخی کامیابی پر امیر شریعت سید محمد ولی رحمانی کا پیغام پٹنہ۔ ۱۶؍اپریل: (پریس ریلیز)پٹنہ میں امارت شرعیہ کی جانب سے منعقدہ دین بچائو دیش بچائو کانفرنس کی کامیابی پر امیر شریعت مفکر ملت مولانا سید محمد ولی رحمانی نے مسلمانان ہند کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنے پریس اعلامیہ میں کہا کہ امارت شرعیہ کی تحریک پر تمام دینی و ملی جماعتوں، خانقاہوں اور تنظیموں کی تائید اور حمایت کے ساتھ ۱۵؍ اپریل ۲۰۱۸ء؁ کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہونے والی دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس کی تاریخی کامیابی پر سب سے پہلے ہم اللہ تبارک تعالیٰ کے حضور میں سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں ، اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سبھی حضرات کی اس حاضری کو قبول کرے اور اس کو دین و ملت کے لیے فتح و سر بلندی کا ذریعہ بنائے ۔اس کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے نہ تو تپتی دھوپ کی پرواہ کی ، نہ پیاس کی شدت نے ان کے قدموں میں لغزش پیدا کی ، نہ راستے کی دشواریوں نے ان کے پاؤں میں بیڑیا ں لگائیں ، بلک...

اور سب پہلے میری موت سے جو چھین لیاجائےگا؟ وہ میرا نام ہوگس

اور سب سے پہلے میری موت پر مجھ سے جو چھین لیا جائے گا وہ میرا نام ہوگا! !! اس لئے جب میں مرجاوں گا تو لوگ کہیں گے کہ" لاش کہاں" ہے؟ اور مجھے میرے نام سے نہیں پکاریں گے ۔۔! اور جب نماز جنازہ پڑھانا ہو تو کہیں گے "جنازہ لےآؤ "!!! میرانام نہیں لینگے ۔۔! اور جب میرے دفنانے کا وقت آجائے تو کہیں گے "میت کو قریب کرو" !!! میرانام بھی یاد نہیں کریں گے ۔۔۔! اس وقت مجھے میرا نسب اور نہ قبیلہ میرے کام آئے گا اور نہ ہی میرا منصب اور شہرت۔۔۔ کتنی فانی اور دھوکہ کی ہے یہ دنیا جسکی طرف ہم لپکتے ہیں۔۔ پس اے زندہ انسان ۔۔۔ خوب جان لے کہ تجھ پر غم و افسوس تین طرح کا ہوتا ہے : 1۔ جو لوگ جو تجھے سرسری طور پر جانتے ہیں وہ مسکین کہکر غم کا اظہار کریں گے ۔ 2۔ تیرے دوست چند گھنٹے یا چند روز تیرا غم کریں گے اور پھر اپنی اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے ۔ 3۔ زیادہ سے زیادہ گہرا غم گھر میں ہوگا وہ تیرے اہل وعیال کا ہوگا جو کہ ہفتہ دو ہفتے یا دو مہینے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک ہوگا اور اس کے بعد وہ تجھے یادوں کی پنوں میں رکھ دیں گے! !! لوگوں کے درمیان تیرا...

ایعام الحسن اعظمی جامعہ عربیہ انعام العلوم موسم وہار غازی آبادیوپی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ تمام معزز علماء دین ومفتیان کرام عورتوں کا سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا صحیح ہے یا نہیں ہےکہ تعلق سے بحث و مباحثہ کررہے ہیں....میں انعام الحسن اعظمی مودبانہ عرض کرتا ہوں کہ کیا عورتیں سڑکوں پر،مارکیٹوں میں،ہاسپیٹلوں میں اور بینکوں وغیرہ وغیرہ میں نہیں نکلتی ہیں؟     یقیناً نکلتی ہیں...تو جب تحفظ شریعت کے لئے...... جب کہ غیر اقوام (ہندوؤں)کو اور حکومت کو ایسا لگ رہا ہے کہ مسلم عورتوں پر ظلم ہو رہا ہے...اگر خود مسلمان عورتیں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرکےغیرمسلموں کواورحکومت کویہ بتا رہی ہیں کہ ہماری شریعت منجانب اللہ ہے ہم اپنی شریعت میں بالکل محفوظ ہیں ہم پر کسی طرح کا کوئ ظلم نہیں ہے بلکہ مذہب اسلام نے عورتوں کو جو حق دیا ہے  کسی اور مذہب میں اس کا تصور تک نہیں ہے...  پھر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے حکم سے یہ احتجاج ہوا ہے اور اراکین مسلم پرسنل لاء بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے امیر المسلمین کی حیثیت رکھتےہیں اور پھر قرآن مجید  کی آیت وقرن فی بیوتکن....الخ کی تفسیر سے بھی اس احتجاج پر کوئ حرف نہیں آتا ہےآپ تفسیرکامطالعہ موجودہ پس...

دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس میں آنے والی گاڑیوں کے لئےروٹ چارٹ جاری.پٹنہ

دین بچاﺅ دیش بچاﺅ کانفرنس میں آنے والی گاڑیوں کےلئے روٹ چارٹ جاری راجدھانی کے مختلف مقامات پر پارکنگ کے بہترین انتظامات، ٹریفک محکمہ کا ڈی ایم کو خط پٹنہ 6اپریل (پریس ریلیز) آئندہ 15اپریل کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہونے والی” دین بچاﺅ دیش بچاﺅ کانفرنس“ کے پیش نظر ٹریفک ایس پی پٹنہ کی جانب سے گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ کانفرنس میں آنے والی تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے الگ الگ روٹ چارٹ جاری کئے گئے جو اس طرح ہیں۔ بڑی گاڑیوں کے لئے میٹھا پور بس اسٹینڈ کے اندر خالی جگہ میں 250،ویٹنری کالج احاطہ میں 350-400گاڑیوں ،گیٹ نمبر 93گھاٹ ،دیگھا کے اندر 200گاڑیوں ،گردنی باغ اسٹیڈیم گراﺅنڈ کے اندر 100بڑی گاڑیوں، پاٹلی پترا اسٹیڈیم کنکر باغ میں بڑی اور چھوٹی 200گاڑیوں کی پارکنگ کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہارڈنگ روڈ ،گردنی باغ ، آر او بی کے مغرب(چتکوہڑا پل کے نیچے سڑک کی دونوں جانب) میں 100چھوٹی گاڑیوں، معین الحق اسٹیڈیم کے اندر 500چھوٹی گاڑیوں، بانس گھاٹ میں 1000چھوٹی گاڑیوں، ویر چند پٹیل پتھ کی دونوں جانب سروس لین میں 250چھوٹی گاڑیوں ، میلرہائی اسکول ...

فضیل احمد ناصری؟ایک شاگردسے ملاقات

*ﻗﻠﺖِ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﮐﺎ ﻗﮩﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﺳﮯ ﺑﺪﮐﺘﮯ ﻓﻀﻼ* ﻓﻀﯿﻞ ﺍﺣﻤﺪ ﻧﺎﺻﺮﯼ *ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ* ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﻤﺒﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ، ﯾﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻓﺮﻗﺎﻥ ﺗﮭﮯ، ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﮯ ﻓﺎﺿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﮐﺰﺍﻟﻤﻌﺎﺭﻑ ﻣﻤﺒﺌﯽ ﺳﮯ ﺳﻨﺪ ﯾﺎﻓﺘﮧ - ﯾﮧ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﻋﺰﯾﺰﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﻭﮈ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ " ﮔﻠﺰﺍﺭِ ﺩﺑﺴﺘﺎﮞ " ﮐﺎ ﺟﻤﻠﮧ " ﻣﻼّ ﻓﺮﻗﺎﻥ ﺧﻮﺩ ﺭﺍ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﺩ " ﺍﻥ ﭘﺮ ﭼﺴﭙﺎﮞ ﮐﺮﺗﺎ، ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﮦ ﻟﯿﺘﮯ - ﺳﮑﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﭼﮩﺮﮦ، ﭼﮭﻮﺍﺭﮮ ﺳﺎ ﺑﺪﻥ، ﺩﺍﮌﮬﯽ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﻝ ﭨﮭﻮﮌﯼ ﺳﮯ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮮ - ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﺋﯽ ﻣﻮﺋﯽ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ، ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﻞ ﺍﭨﮭﮯ، ﺁﺅ ﺑﮭﮕﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﻭ ﻧﯿﺎﺯ - ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺻﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﮭﮑﺎﻧﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ، ﻋﻠﯿﮏ ﺳﻠﯿﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻣﻤﺒﺌﯽ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﻤﺒﯿﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺘﺮﺟﻢ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ - ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ : ﺗﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ - ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺴﺮﺕ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﮐﮩﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﮐﯽ ﭼﻤﮏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﯽ - ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﮯ ! ﺗﻢ ﺗﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﮭﮯ، ﮐﺘﺐ ﻓﮩﻤﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺜﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ، ﺣﺎ...