اشاعتیں

محبت کے جھانسے اور مسلم بیٹیاں

*محبت کے جھانسے اور مسلم بیٹیاں ارتدادی طوفان کی زد میں, بحث ایک نئے زاویے سے.*  سيد احمد فحاشیت ناجائز تعلقات یا پھر پسند کی شادی کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھا لینا، یہ الگ موضوع بحث ہے, جبکہ ارتداد کا شکار ہوکر محبت کے نام پر غیر مسلمین سے شادی یہ بالکل الگ مسئلہ اور موضوع ہے. دونوں کے اسباب و وجوہات، نتائج و کیفیت ہر چیز بالکل جدا ہیں. ایک مسلمان بد عملی کی کنہی انتہاؤں پر پہنچ جائے مگر اسکے دل میں فی الواقع اگر ایمان ہے تو وہ ارتداد اور کفر کے تصور سے بھی لرز اٹھے گا, لیکن آخر کیوں ہماری بہنیں اور بیٹیاں اس کثرت کے ساتھ ارتدادی آندھی کی لپیٹ میں آرہی ہیں؟؟؟  جذباتیت سے اوپر اٹھ کر اس پر تکنیکی اعتبار سے بحث ضروری ہے. محض فحاشیت اور عریانیت کو اسکی اساسی وجہ قرار دے دینا حقائق سے منھ موڑنے کے سوا کچھ نہیں ہے. *میں ذاتی طور پر جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہیکہ* فی زماننامسلم معاشرہ اعتقادی طور پر اسلام کی حقیقی روح سے ناواقف اور اسکی انفرادیت و حقانیت سے بالکل نا آشنا ہے، اور عملی زندگی میں تو ہمارا سماج  خصوصاً معاشرت و معاملات کے میدان میں موجودہ حالت کے ساتھ کوئی...

مولوی محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتے؟؟؟

سوال: مولوی محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتے؟؟؟ جواب: بقلم مولانا زاھدالراشدی محراب ومنبر کے وارث اور محنت مزدوری ازقلم: حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب محترم راجہ انور صاحب کو شکایت ہے کہ محراب ومنبر کے وارث مزدوری کیوں نہیں کرتے؟ ان کی بڑی تعداد محنت مزدوری یا نوکری اور تجارت سے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتی؟ ان میں سے اکثر چندے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے بجائے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یا وزن اٹھا کر اپنی روزی کیوں نہیں کماتے؟ یہ شکایت نئی نہیں، بہت پرانی ہے اور جب مسجد اور مدرسہ نے ایک ریاستی ادارے کی حیثیت سے محروم ہوکر پرائیویٹ ادارے کی حیثیت اختیار کی ہے اور اسے اپنا وجود برقرار رکھنے اور نظام چلانے کے لیے صدقہ، زکوٰۃ، قربانی کی کھالوں اور عوامی چندے کا سہارا لینا پڑا ہے، تب سے یہ شکوہ زبانوں پر ہے اور مختلف طریقوں سے وقتاً فوقتاً اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ مغل حکومت کے دور میں مسجد ومدرسہ کو ریاستی ادارے کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کے اخراجات کی ذمہ داری ریاست پر تھی۔ درس نظامی ملک کا سرکاری نصاب تعلیم تھا اور عدالتوں میں اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری تھی۔ جب اس سارے ...

بیوی آپ کی شریک سفر ھے| جناب مولانا حامد ناصری صاحب

بیوی آپ کی شریک سفر ہے ، آپ کی جیون ساتھی ہے۔ ایسے میں اگر تھکی ہو تو اپنی تھکان دور کرنے کے لیے کسے کہے ۔ اب وہ ہر وقت تو دائی کو بلانے سے رہی ۔ اس کی واحد امید شوہر ہی ہوتا ہے کہ وہ اس کے پاءوں دبائے گا ۔ ایسے مردوں کو رن مرید کا طعنہ دیا جاتا ہے مگر یہ تو ان کی محبت ہے ۔ ویسے بھی بیوی کبھی بھی زیادہ دیرتک پاءوں دبانے کا نہیں کہے گی ۔۔اس پاءوں دبانے کے مردانہ صحت پر حالیہ تحقیق میں بہترین فائدوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شوہر کے ہاتھوں کی ورزش ہوتی ہے ۔ اس کے اندر سے سستی کا مادہ ختم ہوتا ہے اور وہ چست و توانا ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مردانہ کمزوری کا علاج بھی اس میں ہی ہے کہ شوہر کے جذبات بیدار کرنے کے لیے یہ نسخہ کارآمد ہے ۔ حکیموں کے پاس بھاگنے کی بجائے بیوی کے پائوں دبا دیجئے ۔ خود ہی مردانہ کمزوری دور ہوجائے گی ۔۔۔ یہاں طنز کرتے ہیں کہ جو مردانہ کمزوری کا شکار ہوں وہ بیوی کے پاءوں دباتے ہیں کیونکہ وہ بیوی کے رعب میں ہوتے ہیں کہ اسکی عزت بیوی کی زبان کے نیچے ہوتی ہے ۔ مگر یہ غلط ہے ۔ بیوی سارا دن تھکا دینے والے کام کرتی ہے ۔ اگر صرف دو منٹ کے لیے شوہر پائ...

ہاں میں مدرسے کاسفیرہوں نازش ہماقاسمی

ہاں میں مدرسے کا سفیر ہوں۔۔۔۔! نازش ہماقاسمی ہاں میں مدرسے کا سفیر ہوں۔ جی وہی سفیر جسے عرف عام میں مُچَنِّد اور چندہ کرنے والا کہا جاتا ہے۔ جسے  غلط نگاہوں سے قوم دیکھتی ہے۔ ہم شہر میں تو مہمان بن کر آتے ہیں؛ لیکن رؤسائے شہر پیسوں کے زعم میں ہمارے ساتھ  ذلت کا معاملہ کرتے ہیں۔ ہاں میں  مدارسِ اسلامیہ ہند کا سفیر ہوں۔ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں جہاں لوگ اپنے گھروں میں مقدس ماہ کی مبارک ساعتیں گزارتے ہیں وہیں ہم سفراء مدارسِ اسلامیہ طلبائے مدارس اسلامیہ کے سال بھر کے نان ونفقہ کے لیے دور دراز کے علاقوں کا سفر کرتے ہیں، مہمانانِ رسول کے قیام وطعام کے انتظام کے لئے تگ و دو کرتے ہیں، سفر کے مصائب و آلام برداشت کرتے ہیں، ہم عموماً ایسے علاقوں میں مدرسے چلاتے ہیں جہاں کی آبادی غریب ہے، جہاں مسلمان کسمپرسی کے عالم میں ہیں، جہاں مسلمان پریشان حال ہیں، ایسے علاقے کے مدرسوں میں پڑھ رہے طلباء اسلامیہ کے لیے ہم شہروں کا رخ کرتے ہیں؛ تاکہ مدرسے کا چندہ کرکے ان کے اخراجات پورے کرسکیں، انہیں سہولیات فراہم کرسکیں؛ تاکہ وہ قیام وطعام کی فکر سے آزاد ہوکر پورے انہماک سے تعل...

امارت شرعیہ نے ڈاکٹرخالد انو ر سے مکمل بیزاری کا کیا اظہار

تصویر
امارت شرعیہ نے ڈاکٹرخالد انو ر سے مکمل بیزاری کا کیا اظہار پٹنہ۔ ۲۱؍اپریل: (پریس ریلیز) (مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۲۰۱۸؁ء)کے دین بچاؤاوردیش بچاؤ کی تاریخ ساز کانفرنس کے اختتام کے بعد سرکاری حلقہ سے ڈاکٹر خالد انورکے ایم ایل سی کے امیدوار بنائے جانے کی خبر نے کانفرنس کے شرکاء اورامارت شرعیہ کے ذمہ داروں کو متحیر کردیا جیسے ہی یہ خبر ٹی وی اسکرین پر دکھائی جانے لگی مختلف حلقوں سے اس کی اطلاع امارت شرعیہ میں آئی اورحضرت امیر شریعت مولاناسید محمد ولی رحمانی مدظلہ کو اطلاع دی گئی تو انہوں نے بھی اپنی ناخوشی اورحیرت کا اظہار کیا  چوںکہ ڈاکٹر خالد انور دین بچاؤاوردیش بچاؤ کانفرنس کے اناؤنسر تھے اورانہوں نے پہلے سے کوئی مشورہ نہیں کیا تھا اورنہ ہی اس کی اطلاع دی تھی کہ ان کا نام ایم ایل سی کے لئے منتخب ہونے والا ہے یہ ایسا موقع تھا جو امارت شرعیہ کی خدمات اس کے طریقۂ کار اورکانفرنس کی عظمت اوراہمیت کے بارے میں ایمان والوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہورہے تھے اس لئے دوسرے ہی دن حضرت امیر شریعت نے اپنے اخباری بیان میں اس کی وضاحت فرمائی کہ ڈاکٹر خالد انور کے بارے میں امارت شرعیہ کی ط...

ایک ایک کرکے ہمارے مذہبی قائدین کو بدنام کیا جارہا ھے اور ہم اس میں برابر کے شریک بن رہے ھیں.

تصویر
ایک ایک کرکے ہمارے مذہبی قائدین کو بدنام کیا جارہا ھے اور ہم اس میں برابر کے شریک بن رہے ھیں. پہلے مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب کو تین طلاق کے مسئلے پر بدنام کیا گیا. پھر مولانا سید سلمان حسینی صاحب کو بابری مسجد کے سودے بازی کے الزام میں بدنام کیا گیا. اور اب مولانا سید ولی رحمانی صاحب کو ایم ایل سی ٹکٹ کی آڑ میں بدنام کیا جارہا ھے... اب دیکھنا یہ ھے کہ اگلا نمبر ہمارے کس قائد کا ہوتا ھے؟؟. شاید ایک دن ایسا آئے گا کہ ہمارے سارے قائدین کو ہماری نظروں میں برا بنا دیا جائے گا.. اور پھر مسلمانوں کو مار لینا کچھ مشکل نہ ہوگا... اب بھی ہمارے پاس موقع ھے کہ ہم خاموش ہوجائیں.. اپنی زبانیں. اپنے قلم روک لیں... اور اپنے غصے اور جذباتیت پر قابو پاکر بغیر کسی ذہنی دباؤ کے سوچیں کہ آخر معاملہ کیا ھے؟ آخر ایسا کیوں ہورہا ھے؟؟ اور کن لوگوں کے ذریعہ ہورہا ھے... ان الزامات کی شروعات کہاں سے ہورہی ھے.. اور شیرہ لگانے کا کام کون کر رہا ھے..؟ ہمارے پاس کوئی تحقیق نہیں ہوتی، کوئی سچی رپورٹ نہیں ہوتی.. نہ ہمارے پاس وحی کا سلسلہ ھے نہ کشف و الہامات کی بارش ... پھر آخر ہم کیسے اتنے ال...

مکہ مسجد دھماکہ کیس میں عدالت کے فیصلہ کو اعلیٰ عدالت میں چینلج کیا جائے گا : جمعیۃعلماہند کی مجلس عاملہ کا فیصلہ

تصویر
مکہ مسجد دھماکہ کیس میں عدالت کے فیصلہ کو  اعلیٰ عدالت میں چینلج کیا جائے گا : جمعیۃعلماہند کی مجلس عاملہ کا فیصلہ  دہلی:20اپریل(قندیل نیوز ) جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس مرکزی دفترمفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال 1بہادرشاہ ظفرمارگ نئی دہلی میں صدرمولانا سید ارشدمدنی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک کے موجودہ حالات اور دوسرے اہم مسائل پر غور خوض ہوا اور ان پر مجلس عاملہ کے ممبران نے کھل کر اپنی رائے اور احساسات کا اظہار کیا ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃعلماء ہند نے ملک کے موجودہ حالات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات ملک کے تقسیم کے وقت سے بھی بدتر اور خطرناک ہوچکے ہیں ایک طرف جہاں آئین وقوانین کی بالادستی کو ختم کرنے کی سازش ہورہی ہے وہی عدل وانصاف کی روشن روایت کو بھی ختم کردینے کی خطرناک روش کو عام کیا جارہا ہے ،مکہ مسجد دھماکہ کے معاملہ میں ملزمین کی باعزت رہائی پر انہوں نے سخت افسوس اور دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کااشارہ تو اس حکومت کے اقتدارمیں آنے کہ بعد ہی مل گیا تھا جب مالیگاؤں بم دھماکہ کے مقدمہ میں سرکاری وکی...