مولوی محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتے؟؟؟
سوال: مولوی محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتے؟؟؟ جواب: بقلم مولانا زاھدالراشدی محراب ومنبر کے وارث اور محنت مزدوری ازقلم: حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب محترم راجہ انور صاحب کو شکایت ہے کہ محراب ومنبر کے وارث مزدوری کیوں نہیں کرتے؟ ان کی بڑی تعداد محنت مزدوری یا نوکری اور تجارت سے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتی؟ ان میں سے اکثر چندے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے بجائے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یا وزن اٹھا کر اپنی روزی کیوں نہیں کماتے؟ یہ شکایت نئی نہیں، بہت پرانی ہے اور جب مسجد اور مدرسہ نے ایک ریاستی ادارے کی حیثیت سے محروم ہوکر پرائیویٹ ادارے کی حیثیت اختیار کی ہے اور اسے اپنا وجود برقرار رکھنے اور نظام چلانے کے لیے صدقہ، زکوٰۃ، قربانی کی کھالوں اور عوامی چندے کا سہارا لینا پڑا ہے، تب سے یہ شکوہ زبانوں پر ہے اور مختلف طریقوں سے وقتاً فوقتاً اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ مغل حکومت کے دور میں مسجد ومدرسہ کو ریاستی ادارے کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کے اخراجات کی ذمہ داری ریاست پر تھی۔ درس نظامی ملک کا سرکاری نصاب تعلیم تھا اور عدالتوں میں اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری تھی۔ جب اس سارے ...