بیوی آپ کی شریک سفر ھے| جناب مولانا حامد ناصری صاحب
بیوی آپ کی شریک سفر ہے ، آپ کی جیون ساتھی ہے۔ ایسے میں اگر تھکی ہو تو اپنی تھکان دور کرنے کے لیے کسے کہے ۔ اب وہ ہر وقت تو دائی کو بلانے سے رہی ۔ اس کی واحد امید شوہر ہی ہوتا ہے کہ وہ اس کے پاءوں دبائے گا ۔ ایسے مردوں کو رن مرید کا طعنہ دیا جاتا ہے مگر یہ تو ان کی محبت ہے ۔ ویسے بھی بیوی کبھی بھی زیادہ دیرتک پاءوں دبانے کا نہیں کہے گی ۔۔اس پاءوں دبانے کے مردانہ صحت پر حالیہ تحقیق میں بہترین فائدوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شوہر کے ہاتھوں کی ورزش ہوتی ہے ۔
اس کے اندر سے سستی کا مادہ ختم ہوتا ہے اور وہ چست و توانا ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مردانہ کمزوری کا علاج بھی اس میں ہی ہے کہ شوہر کے جذبات بیدار کرنے کے لیے یہ نسخہ کارآمد ہے ۔ حکیموں کے پاس بھاگنے کی بجائے بیوی کے پائوں دبا دیجئے ۔ خود ہی مردانہ کمزوری دور ہوجائے گی ۔۔۔ یہاں طنز کرتے ہیں کہ جو مردانہ کمزوری کا شکار ہوں وہ بیوی کے پاءوں دباتے ہیں کیونکہ وہ بیوی کے رعب میں ہوتے ہیں کہ اسکی عزت بیوی کی زبان کے نیچے ہوتی ہے ۔ مگر یہ غلط ہے ۔ بیوی سارا دن تھکا دینے والے کام کرتی ہے ۔
اگر صرف دو منٹ کے لیے شوہر پائوں دبا دے تو وہ ایسے فریش ہوجائے جیسے کی بورڈ کا ایف فائیو کا بٹن ونڈو کو فریش کردیتا ہے ۔ بیوی کو احساس ہوتا ہے کہ شوہر اس کا کتنا خیال رکھتاہے ۔ بیشک ایسا مہینے میں ایک دو بار ہی کریں مگر ضرور کریں ۔۔پاءوں دبانا ، رومینس کی ابتدا بھی ہے ۔ وہ جو شادی بندھن میں بندھے ہیں رومینس کے تمام طریقے پھیکے ہوگئے ہیں وہ اس کارآمد طریقے کو آزمائیں ۔ دونوں ہی یہ کام کرکے دیکھیں ، بیوی اور شوہر ۔۔۔۔۔۔ تو وہ زندگی کا ایک نیا لطف پاسکتے ہیں۔
بیوی کے پاءوں دبانے کے فائدے یہ ہیں۔ ۔۔ مرد کے اندر سے سستی ختم ہوتی ہے چستی پیدا ہوتی ہے۔ مردانہ کمزوری دور ہوتی ہے اورخوشگوار جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ رومینس میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ۔۔۔ آپس میں محبت بڑھتی ہے ۔ ذہنی ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دل صاف ہوتے ہیں، ایک دوسرے کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ پاءوں دبانے کا کونسا وقت مناسب ہے ۔ زیادہ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ رات کا وقت ہی مناسب ہے کہ اس وقت ہی تھکاوٹ اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔۔ اس لیے مردوں کو اس کارآمد مفید نسخے پر عمل کرنا چاہئے ۔
بجائے کہ جعلی حکماء کے پاس جاکر مردانہ کمزوری کا علاج کروائیں۔۔۔ کیونکہ دوائی تو آپ کے گھر میں موجود ہے ۔ بیوی کے پائوں کی شکل میں۔۔ بس آپ نے ہمت کرنی ہے ۔ شروع شروع میں یہ عمل کڑوے گھونٹ کی طرح لگے گا، پھر دونوں کو عادت ہوجائے گی ۔ آپ کو پائوں دبانے کی اور بیوی کو پاءوں دبوانے کی ۔۔ پھر یہ روٹین کا ہی کام لگے گا۔ امید ہے کہ یہ فائدے پڑھنے کے بعد آپ زیادہ دیر نہیں لگائیں گے ۔ اس کارآمد نسخے کو ضرور آزمائیں گے اور اپنی زندگی خوشگوار بنائیں گے۔۔۔
کاپی پیسٹ جناب مولانا حامد ناصری صاحب کے فیس بک وال سے
اس کے اندر سے سستی کا مادہ ختم ہوتا ہے اور وہ چست و توانا ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مردانہ کمزوری کا علاج بھی اس میں ہی ہے کہ شوہر کے جذبات بیدار کرنے کے لیے یہ نسخہ کارآمد ہے ۔ حکیموں کے پاس بھاگنے کی بجائے بیوی کے پائوں دبا دیجئے ۔ خود ہی مردانہ کمزوری دور ہوجائے گی ۔۔۔ یہاں طنز کرتے ہیں کہ جو مردانہ کمزوری کا شکار ہوں وہ بیوی کے پاءوں دباتے ہیں کیونکہ وہ بیوی کے رعب میں ہوتے ہیں کہ اسکی عزت بیوی کی زبان کے نیچے ہوتی ہے ۔ مگر یہ غلط ہے ۔ بیوی سارا دن تھکا دینے والے کام کرتی ہے ۔
اگر صرف دو منٹ کے لیے شوہر پائوں دبا دے تو وہ ایسے فریش ہوجائے جیسے کی بورڈ کا ایف فائیو کا بٹن ونڈو کو فریش کردیتا ہے ۔ بیوی کو احساس ہوتا ہے کہ شوہر اس کا کتنا خیال رکھتاہے ۔ بیشک ایسا مہینے میں ایک دو بار ہی کریں مگر ضرور کریں ۔۔پاءوں دبانا ، رومینس کی ابتدا بھی ہے ۔ وہ جو شادی بندھن میں بندھے ہیں رومینس کے تمام طریقے پھیکے ہوگئے ہیں وہ اس کارآمد طریقے کو آزمائیں ۔ دونوں ہی یہ کام کرکے دیکھیں ، بیوی اور شوہر ۔۔۔۔۔۔ تو وہ زندگی کا ایک نیا لطف پاسکتے ہیں۔
بیوی کے پاءوں دبانے کے فائدے یہ ہیں۔ ۔۔ مرد کے اندر سے سستی ختم ہوتی ہے چستی پیدا ہوتی ہے۔ مردانہ کمزوری دور ہوتی ہے اورخوشگوار جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ رومینس میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ۔۔۔ آپس میں محبت بڑھتی ہے ۔ ذہنی ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دل صاف ہوتے ہیں، ایک دوسرے کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ پاءوں دبانے کا کونسا وقت مناسب ہے ۔ زیادہ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ رات کا وقت ہی مناسب ہے کہ اس وقت ہی تھکاوٹ اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔۔ اس لیے مردوں کو اس کارآمد مفید نسخے پر عمل کرنا چاہئے ۔
بجائے کہ جعلی حکماء کے پاس جاکر مردانہ کمزوری کا علاج کروائیں۔۔۔ کیونکہ دوائی تو آپ کے گھر میں موجود ہے ۔ بیوی کے پائوں کی شکل میں۔۔ بس آپ نے ہمت کرنی ہے ۔ شروع شروع میں یہ عمل کڑوے گھونٹ کی طرح لگے گا، پھر دونوں کو عادت ہوجائے گی ۔ آپ کو پائوں دبانے کی اور بیوی کو پاءوں دبوانے کی ۔۔ پھر یہ روٹین کا ہی کام لگے گا۔ امید ہے کہ یہ فائدے پڑھنے کے بعد آپ زیادہ دیر نہیں لگائیں گے ۔ اس کارآمد نسخے کو ضرور آزمائیں گے اور اپنی زندگی خوشگوار بنائیں گے۔۔۔
کاپی پیسٹ جناب مولانا حامد ناصری صاحب کے فیس بک وال سے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں