ایک ایک کرکے ہمارے مذہبی قائدین کو بدنام کیا جارہا ھے اور ہم اس میں برابر کے شریک بن رہے ھیں.
ایک ایک کرکے ہمارے مذہبی قائدین کو بدنام کیا جارہا ھے اور ہم اس میں برابر کے شریک بن رہے ھیں.
پہلے مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب کو تین طلاق کے مسئلے پر بدنام کیا گیا.
پھر مولانا سید سلمان حسینی صاحب کو بابری مسجد کے سودے بازی کے الزام میں بدنام کیا گیا.
اور اب مولانا سید ولی رحمانی صاحب کو ایم ایل سی ٹکٹ کی آڑ میں بدنام کیا جارہا ھے...
اب دیکھنا یہ ھے کہ اگلا نمبر ہمارے کس قائد کا ہوتا ھے؟؟.
شاید ایک دن ایسا آئے گا کہ ہمارے سارے قائدین کو ہماری نظروں میں برا بنا دیا جائے گا.. اور پھر مسلمانوں کو مار لینا کچھ مشکل نہ ہوگا...
اب بھی ہمارے پاس موقع ھے کہ ہم خاموش ہوجائیں.. اپنی زبانیں. اپنے قلم روک لیں... اور اپنے غصے اور جذباتیت پر قابو پاکر بغیر کسی ذہنی دباؤ کے سوچیں کہ آخر معاملہ کیا ھے؟ آخر ایسا کیوں ہورہا ھے؟؟ اور کن لوگوں کے ذریعہ ہورہا ھے... ان الزامات کی شروعات کہاں سے ہورہی ھے.. اور شیرہ لگانے کا کام کون کر رہا ھے..؟ ہمارے پاس کوئی تحقیق نہیں ہوتی، کوئی سچی رپورٹ نہیں ہوتی.. نہ ہمارے پاس وحی کا سلسلہ ھے نہ کشف و الہامات کی بارش ... پھر آخر ہم کیسے اتنے الزامات لگا لے رہے ھین..؟ اور کیسے ہم اتنے زہریلے الفاظ کا استعمال کر لے رہے ھین..؟؟ عام عوام کی تو بات ہی نہیں کی جاسکتی.. یہاں تو خواص غوطہ لگارہا ھے.. منہ بھر بھر کے الزامات لگائے جارہے ھین.. عشروں پہلے دفن مردے اکھاڑے جارہے ھیں.. حالانکہ کہ معاملہ ظاہر پر ہوتا ھے.. لیکن ہم بلا ثبوت بلا گواہ بس بکے جارہے ھیں... الزامات و اتہامات کی بارش کئے جارہے ھین..
جب مولانا اسرار الحق صاحب کا مسئلہ تھا تبھی ہمیں رک جانا چاھئے تھا... لیکن ہم نہیں رکے.. آگے بڑھ گئے.. آپسی رسہ کشی جاری رہی.. طوفان بدتمیزی رونما ہوتی رہی.. پھر مولانا سلمان صاحب کی بات آئی... کیا کیا الزامات ہم نے نہیں دئے... ہم نے ان کے خانوادے تک کو نہیں بخشا... اور اب مولانا ولی رحمانی صاحب کے استفسار کے بعد بھی ہم ان کے پیچھے لگے ہوئے ھیں.. ... اللہ تعالی ہم پر رحم کرے اور ہم کو صحیح علم عطا فرمائے.. آمین.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں